سنن أبي داود حدیث نمبر: 3282
Sunan Abi Dawud 3282
کتاب #22: کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
19: باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ
باب: مسلمان لونڈی کو (کفارہ میں) آزاد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟، قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا، قَالَ: أَيْنَ اللَّهُ؟، قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ“ میں اسے لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان کے اوپر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3282]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (537) ¤ انظر الحديث السابق (930)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم:(930)، (تحفة الأشراف: 11378) (صحیح)