سنن أبي داود حدیث نمبر: 3086
Sunan Abi Dawud 3086
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
40: باب مَا جَاءَ فِي الرِّكَازِ وَمَا فِيهِ
باب: دفینہ کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِيُّ".
حسن بصری کہتے ہیں کہ رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3086]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض نسخوں میں ”یحییٰ بن معین“ ہے، مزی نے تحفۃ الاشراف میں ”ابن معین“ ہی لکھا ہے۔
۲؎: حسن بصری نے رکاز کی تعریف «الکنز العادی» سے کی، یعنی زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا خزانہ، اور ہر پرانی چیز کو عادی «عاد» سے منسوب کر کے کہتے ہیں، گرچہ «عاد» کا عہد نہ ملا ہو، حسن بصری کی یہ تفسیر لؤلؤئی کے سنن ابی داود کے نسخے میں نہیں ہے، امام مزی نے اسے تحفۃ الأشراف میں ابن داسہ کی روایت سے ذکر کیا ہے۔
۲؎: حسن بصری نے رکاز کی تعریف «الکنز العادی» سے کی، یعنی زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا خزانہ، اور ہر پرانی چیز کو عادی «عاد» سے منسوب کر کے کہتے ہیں، گرچہ «عاد» کا عہد نہ ملا ہو، حسن بصری کی یہ تفسیر لؤلؤئی کے سنن ابی داود کے نسخے میں نہیں ہے، امام مزی نے اسے تحفۃ الأشراف میں ابن داسہ کی روایت سے ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ھشام بن حسان عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18555) (صحیح)