سنن أبي داود حدیث نمبر: 3084
Sunan Abi Dawud 3084
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
39: باب فِي الأَرْضِ يَحْمِيهَا الإِمَامُ أَوِ الرَّجُلُ
باب: امام یا کوئی اور شخص زمین (چراگاہ اور پانی) اپنے لیے گھیر لے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حمَى النَّقِيعَ، وَقَالَ: " لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنایا، اور فرمایا: ”اللہ کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3084]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حکومت کے مویشی جیسے جہاد سے یا زکاۃ میں حاصل ہونے والے جانوروں کے لیے چراگاہ کو خاص کرنا جائز ہے، اور عام آدمی کسی جگہ یا چشمہ وغیرہ کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے روک لے تو یہ صحیح نہیں ہے، یہ حکم ایسی زمینوں کا ہے جو کسی خاص آدمی کی ملکیت اور قبضے میں نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (3083)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4941) (حسن)