سنن أبي داود حدیث نمبر: 3066
Sunan Abi Dawud 3066
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
36: باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الأَرَاكِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ، فَقَالَ: أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حِمَى فِي الأَرَاكِ"، قَالَ: فَرَجٌ يَعْنِي بِحِظَارِي الأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا.
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیلو میں روک نہیں ہے“، انہوں نے کہا: پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیلو میں روک نہیں ہے“ (اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے)۔ فرج کہتے ہیں: «حظاری» سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3066]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک احاطہ جس میں دوسرے لوگ آ کر نہ درخت کاٹیں نہ اس میں اپنے جانور چرائیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2475) ¤ ثابت و أبوه مستوران لم يوثقھما غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3)، وقد أخرجہ: دی/ البیوع 66 (2650) (حسن لغیرہ) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 390)