سنن أبي داود حدیث نمبر: 3061
Sunan Abi Dawud 3061
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
36: باب فِي إِقْطَاعِ الأَرَضِينَ
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ.
ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے کئی لوگوں سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو فرع ۱؎ کی طرف کے قبلیہ ۲؎ کے کان دیئے، تو ان کانوں سے آج تک زکاۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا رہا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3061]
💡 وضاحت:
۱؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
۲؎: قبلیہ ایک گاؤں ہے جو فرع کے متعلقات میں سے ہے۔
۲؎: قبلیہ ایک گاؤں ہے جو فرع کے متعلقات میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (1812) ¤ وللحديث شاھد عند ابن الجارود (371 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10777)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 3 (8)، مسند احمد (1/306) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، اس میں مذکور جاگیر دینے والے واقعہ کی متابعت اور شواہد تو موجود ہیں مگر زکاة والے معاملہ کے متابعات و شواہد نہیں ہیں)