سنن أبي داود حدیث نمبر: 3049
Sunan Abi Dawud 3049
کتاب #20: کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
33: باب فِي تَعْشِيرِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَاتِ
باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر (دسواں حصہ) وصول کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُهُ إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأُعَشِّرُهُمْ؟ قَالَ: " لَا إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ".
حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا، آپ نے مجھے اسلام سکھایا، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3049]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عطاء اختلط ¤ وانظر حديث (3046) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (3046)، (تحفة الأشراف: 15546، 18489) (ضعیف) (حرب ضعیف ہیں)