سنن أبي داود حدیث نمبر: 2882
Sunan Abi Dawud 2882
کتاب #18: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْهُ
باب: وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (پہنچے گا)“، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2882]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2770)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوصایا20 (2770)، سنن الترمذی/الزکاة 33 (669)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3685)، (تحفة الأشراف: 6163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/370) (صحیح)