سنن أبي داود حدیث نمبر: 2881
Sunan Abi Dawud 2881
کتاب #18: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْهُ
باب: وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَوْلَا ذَلِكَ لَتَصَدَّقَتْ وَأَعْطَتْ أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ فَتَصَدَّقِي عَنْهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور (اللہ کی راہ میں) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ انہیں کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2881]
💡 وضاحت:
۱؎: اس بات پر علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ صدقے اور دعا کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ أصله عند البخاري (1388) ومسلم (1004 بعد ح1630)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16883)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 19 (2960)، صحیح مسلم/الزکاة 15 (1004)، الوصیة 2 (1630)، سنن النسائی/الوصایا 7 (3679)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 8 (2717)، موطا امام مالک/الأقضیة 41 (53)، مسند احمد (6/51) (صحیح)