سنن أبي داود حدیث نمبر: 2807
Sunan Abi Dawud 2807
کتاب #16: کتاب: قربانی کے مسائل
7: باب فِي الْبَقَرِ وَالْجَزُورِ عَنْ كَمْ، تُجْزِئُ
باب: گائے بیل اور اونٹ کی قربانی کتنے آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نَتَمَتَّعُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حج تمتع کرتے تو گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے، اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے، ہم سب اس میں شریک ہو جاتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2807]
💡 وضاحت:
۱؎: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ ضابطہ واصول ہدی کے جانوروں کے لئے ہے، قربانی میں اونٹ دس افراد کی طرف سے بھی جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، قربانی کا وقت آ گیا تو گائے میں ہم سات آدمی شریک ہوئے، اور اونٹ میں دس آدمی، یہ روایت سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1318)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 62 (1318)، سنن النسائی/الضحایا 15 (4398)، (تحفة الأشراف: 2435)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 66 (904)، موطا امام مالک/الضحایا 5 (9) (صحیح)