سنن أبي داود حدیث نمبر: 2788
Sunan Abi Dawud 2788
کتاب #16: کتاب: قربانی کے مسائل
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ. ح وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ أَبِي رَمْلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْعَتِيرَةُ مَنْسُوخَةٌ هَذَا خَبَرٌ مَنْسُوخٌ.
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! (سن لو) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور «عتیرہ» ہے ۱؎ کیا تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عتیرہ» منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2788]
💡 وضاحت:
۱؎: «عتیرہ» وہ ذبیحہ ہے جو اوائل اسلام میں رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کیا جاتا تھا، اسی کا دوسرا نام «رجبیہ» بھی تھا، بعد میں «عتیرہ» منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1518) نسائي (4229) ابن ماجه (3125) ¤ أبو رملة مجھول الحال،جھله ابن القطان وغيره ¤ والحديث الآتي (الأصل: 2830) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأضاحي 19(1518)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1(4229)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/215، 5/76) (حسن)