سنن أبي داود حدیث نمبر: 2787
Sunan Abi Dawud 2787
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
182: باب فِي الإِقَامَةِ بِأَرْضِ الشِّرْكِ
باب: شرک کی سر زمین میں رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنُ سُفْيان، حَدَّثَنَا يَحْيى بْنُ حَسَّانَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَر بْنُ سَعْدِ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُب، حدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُب، أَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَامَعَ المُشْرِكَ، وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں «أما بعد» ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2787]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تغلیظاً اور تشدیداً فرمایا تاکہ آدمی مشرک کی صحبت سے بچے یا مراد یہ ہے کہ جب اس کے ساتھ رہے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا کیونکہ صحبت کا اثر یقینی طور پر پڑتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ خبيب: مجهول،وجعفر: ضعيف كما ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4621)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 42 (1605) (حسن لغیرہ) (سند میں متعدد ضعیف ہیں لیکن دوسرے طریق جس کی تخریج حاکم نے کی ہے سے تقویت پاکر یہ حسن ہے(المستدرک 1/141-142) (ملاحظہ ہو الصحیحة: 2330)