سنن أبي داود حدیث نمبر: 2723
Sunan Abi Dawud 2723
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
151: باب فِيمَنْ جَاءَ بَعْدَ الْغَنِيمَةِ لاَ سَهْمَ لَهُ
باب: جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لِيفٌ فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: لَا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ يَا أَبَانُ وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا: تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابان تم بیٹھ جاؤ“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2723]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ إسماعيل بن عياش صرح بالسماع (كما في تغليق التعليق 4/135) وتابعه عبد الله بن سالم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 28 (2827)، والمغازي 38 (4237)، (تحفة الأشراف: 14280) (صحیح)