📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: جہاد کے مسائل (كِتَاب الْجِهَادِ) 🏷️ باب: باب: زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 2722 Sunan Abi Dawud 2722
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
150: باب مَنْ أَجَازَ عَلَى جَرِيحٍ مُثْخَنٍ يُنَفَّلُ مِنْ سَلَبِهِ
باب: زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: نَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ كَانَ قَتَلَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2722]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی نے ابوجہل کے سر کو اس کے جسم سے (جب اس میں جان باقی تھی) جدا کیا تھا اسی لئے اس کی تلوار آپ نے انہی کو دی، ورنہ اس کے قاتل اصلاً معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ أبو عبيدة عن أبيه: منقطع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9621)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/444) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
سنن أبي داود • حدیث #2722
2720 2721 2722 2723 2724
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ