سنن أبي داود حدیث نمبر: 2704
Sunan Abi Dawud 2704
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
138: باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ يَعْنِي الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2704]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4020)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5172)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/355) (صحیح)