سنن أبي داود حدیث نمبر: 2702
Sunan Abi Dawud 2702
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
137: باب فِي إِبَاحَةِ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے ملک میں (غنیمت میں) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: لَا أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا قَالَ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ إِلَيَّ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2702]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3153) صحيح مسلم (1772)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الخمس 20 (3153)، والمغازي 38 (4214)، والصید 22 (5508)، صحیح مسلم/الجھاد 25 (1772)، سنن النسائی/الضحایا 37 (4440)، (تحفة الأشراف: 9656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/55، 56)، سنن الدارمی/السیر 57 (2542) (صحیح)