سنن أبي داود حدیث نمبر: 2529
Sunan Abi Dawud 2529
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُجَاهِدُ؟ قَالَ:" أَلَكَ أَبَوَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْعَبَّاسِ: هَذَا الشَّاعِرُ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں جہاد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں دونوں میں جہاد کرو ۱؎“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2529]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی خدمت کرکے جہاد کا ثواب حاصل کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3004) صحيح مسلم (2549)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 138 (3004)، والأدب 3 (5972)، صحیح مسلم/البر 1 (2549)، سنن الترمذی/الجھاد 2 (1671)، سنن النسائی/الجھاد 5 (3105)، (تحفة الأشراف: 8634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/165، 172، 188، 193، 197، 221) (صحیح)