سنن أبي داود حدیث نمبر: 2528
Sunan Abi Dawud 2528
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
33: باب فِي الرَّجُلِ يَغْزُو وَأَبَوَاهُ كَارِهَانِ
باب: ماں باپ کی مرضی کے بغیر جہاد کرنے والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: " ارْجِعْ عَلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2528]
💡 وضاحت:
۱؎: علامہ خطابی کہتے ہیں کہ مجاہد اگر رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں ماں باپ کی اجازت ضروری ہے، البتہ اگر جہاد میں شرکت اس کے لئے فرض ہے تو ماں باپ کی مرضی اور اجازت کی ضرورت نہیں، مذکورہ دونوں صورتوں میں ان کی اجازت یا عدم اجازت کا مسئلہ اس وقت اٹھتا ہے جب ماں باپ مسلم ہوں، اگر وہ دونوں کافر ہیں تو اجازت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ رواه شعبة (مسند أحمد 6909 وسنده صحيح) وحماد بن زيد (سنن الكبريٰ للنسائي: 8377) وغيرھما عن عطاء بن السائب به
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الجہاد 5 (3105)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 12(2782)، (تحفة الأشراف: 8640)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160، 194، 197، 198، 204) (صحیح)