سنن أبي داود حدیث نمبر: 2510
Sunan Abi Dawud 2510
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
21: باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَزْوِ
باب: جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ وَقَالَ: لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ: لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو“، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ”تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2510]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1896)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 38 (1896)، (تحفة الأشراف: 4414)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 49، 55) (صحیح)