سنن أبي داود حدیث نمبر: 2509
Sunan Abi Dawud 2509
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
21: باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَزْوِ
باب: جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2509]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2843) صحيح مسلم (1895)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 38 (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد 6 (1628)، سنن النسائی/الجھاد 44 (3182)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 3 (2759)، (تحفة الأشراف: 3747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/115، 116، 117، 5/192، 193)، سنن الدارمی/ الجھاد 27 (2463) (صحیح)