سنن أبي داود حدیث نمبر: 2506
Sunan Abi Dawud 2506
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
19: باب فِي نَسْخِ نَفِيرِ الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ
باب: جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا سورة التوبة آية 39، قَالَ: فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ وَكَانَ عَذَابَهُمْ.
نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ”اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا“ (سورۃ التوبہ: ۳۹) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی (اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2506]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نجدة بن نفيع مجهول (تق: 7099) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 92
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6523) (ضعیف) (اس کے راوی نجدة مجہول ہیں)