📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: روزوں کے احکام و مسائل (كتاب الصيام) 🏷️ باب: باب: یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے کیسا ہے؟
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 2415 Sunan Abi Dawud 2415
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
47: باب مَنْ يَقُولُ صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ
باب: یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَقُمْتُهُ كُلَّهُ". فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ نَوْمَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا۔ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا (اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2415]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ نسائي (2111) ¤ الحسن البصري عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الصیام 4 (2111)، (تحفة الأشراف: 11664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/40، 41، 48، 52) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
سنن أبي داود • حدیث #2415
2413 2414 2415 2416 2417
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ