سنن أبي داود حدیث نمبر: 2413
Sunan Abi Dawud 2413
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
46: باب قَدْرِ مَسِيرَةِ مَا يُفْطِرُ فِيهِ
باب: کتنی دور کے سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، " أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ دِمَشْقَ مَرَّةً إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنْ الْفُسْطَاطِ وَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ. ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا. فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ، إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ". يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا. ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ.
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے (یعنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2413]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ رواه ابن خزيمة (2041 وسنده حسن) منصور الكلبي وثقه العجلي المعتدل وابن حبان فھو صدوق حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/398) (ضعیف) (اس کے راوی منصور کلبی مجہول ہیں)