سنن أبي داود حدیث نمبر: 2387
Sunan Abi Dawud 2387
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
35: باب كَرَاهِيَتِهِ لِلشَّابِّ
باب: جوان شخص کے لیے بیوی سے مباشرت کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعنبس عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ، فَنَهَاهُ. فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2387]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2006) ¤ وللحديث شاھد عند البيھقي (4/231، 232)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12198) (حسن صحیح)