سنن أبي داود حدیث نمبر: 2385
Sunan Abi Dawud 2385
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
33: باب الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ. ح وحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: هَشَشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، " قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ". قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ، قَالَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ: " لَا بَأْسَ بِهِ". ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: فَمَهْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو (تو کیا ہوا)“، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بس کوئی بات نہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2385]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ صححه ابن خزيمة (1999 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10422)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (3048)، مسند احمد (1/21، 53، سنن الدارمی/الصوم 21(1765) (صحیح)