سنن أبي داود حدیث نمبر: 2342
Sunan Abi Dawud 2342
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
14: باب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ
باب: رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمْرَقَنْدِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2342]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1979، 2922) ¤ عبد الله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الدارقطني (2/165) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8543)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1733) (صحیح)