سنن أبي داود حدیث نمبر: 2340
Sunan Abi Dawud 2340
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
14: باب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ
باب: رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2340]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (691) نسائي (2114) ابن ماجه (1652) ¤ سلسلة سماك عن عكرمة: سلسلة ضعيفة (تقدم: 68،2238) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصوم 7 (691)، سنن النسائی/الصوم 6 (2115)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1652)، (تحفة الأشراف: 6104، 19113)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے عن عکرمہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم … مرسلاً روایت کیا ہے)