سنن أبي داود حدیث نمبر: 2262
Sunan Abi Dawud 2262
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
28: باب إِذَا شَكَّ فِي الْوَلَدِ
باب: جب بچے کے متعلق شک ہو تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أُنْكِرُهُ. فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2262]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (7314) صحيح مسلم (1500)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاعتصام 12 (7314)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، (تحفة الأشراف: 15311) (صحیح)