سنن أبي داود حدیث نمبر: 2261
Sunan Abi Dawud 2261
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
28: باب إِذَا شَكَّ فِي الْوَلَدِ
باب: جب بچے کے متعلق شک ہو تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس کا مقصد اپنے سے بچہ کی نفی کرنی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2261]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1500)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن النسائی/الطلاق 46 (3509)، (تحفة الأشراف: 13273)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)