سنن أبي داود حدیث نمبر: 2238
Sunan Abi Dawud 2238
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
23: باب إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَيَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2238]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1144،2008) ¤ سماك عن عكرمة:سلسلة ضعيفة،وإليه أشار في التقريب (2624) وأما عن غير عكرمة فسماك: صدوق حسن الحديث،إذا روي قبل اختلاطه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/النکاح 42 (1144)، سنن ابن ماجہ/النکاح 60 (2008)، (تحفة الأشراف: 6107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 323) (ضعیف) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اور یہاں بھی دونوں روایتوں میں اضطراب ظاہر ہے)