سنن أبي داود حدیث نمبر: 2236
Sunan Abi Dawud 2236
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
21: باب حَتَّى مَتَى يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ
باب: آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو کب تک اختیار ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَعَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهَا: " إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: ”اگر اس نے تجھ سے صحبت کر لی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2236]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن وله متابعة مردودة،عند البيهقي (225/7) والدار قطني (294/3 ح 3733) من أجل محمد بن إبراهيم الشامي لأنه كذاب ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17184، 19260) (حسن)