سنن أبي داود حدیث نمبر: 2210
Sunan Abi Dawud 2210
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
16: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ يَا أُخْتِي
باب: آدمی اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکارے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخَيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُخْتُكَ هِيَ"، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ.
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ تیری بہن ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2210]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ اس کے کہنے سے وہ اس کی بہن نہیں ہو جائے گی مگر نامناسب بات زبان سے نکالنی مناسب نہیں، گو وہ اس کی دینی بہن ہو یا رشتہ میں بھی بہن کے مرتبہ کی ہو جیسے چچا یا پھوپھی یا خالہ کی بیٹی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ السند مرسل: أبو تميمة الھجيمي طريف بن مجالد: تابعي من الطبقة الثالثة ¤ انظر التقريب(3014) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15599، 18846) (اس کے راوی ابوتمیمة تابعی ہیں اس لئے مرسل ہے) (ضعیف)