سنن أبي داود حدیث نمبر: 2209
Sunan Abi Dawud 2209
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
15: باب فِي الْوَسْوَسَةِ بِالطَّلاَقِ
باب: دل میں طلاق کے خیال آنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ، وَبِمَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کر دیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2209]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دل میں طلاق کا صرف خیال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2528) صحيح مسلم (127)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العتق 6 (2528)، والطلاق 11 (5269)، والأیمان والنذور 15 (6664)، صحیح مسلم/الإیمان 58 (127)، سنن الترمذی/الطلاق 8 (1183)، سنن النسائی/الطلاق 22 (3464، 3465)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 14 (2040)، (تحفة الأشراف: 12896)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/393، 398، 425، 474، 481، 491) (صحیح)