سنن أبي داود حدیث نمبر: 200
Sunan Abi Dawud 200
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
80: باب الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند (سونے) سے وضو ہے یا نہیں؟
حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كُنَّا نَخْفِقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِلَفْظٍ آخَرَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر (نیند کے غلبہ سے) جھک جھک جاتے تھے، پھر وہ نماز ادا کرتے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 200]
💡 وضاحت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا نہ کہ لیٹ کر۔ جیسے کہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (376) ¤ مشكوة المصابيح (317)
تخریج دارالدعوہ:
أخرجه: صحيح مسلم/الحيض/ 33. باب الدليل على أن نوم الجالس لا ينقض الوضوء: فواد 376: دارالسلام 835، من حديث قتادة به، تفرد به ابوداود، تحفة الأشراف: 1384، سنن الترمذي/الطهارة/ 57. باب ما جاء فى الوضوء من النوم: 78، وصححه الدارقطني: 1/ 131 (صحيح)