سنن أبي داود حدیث نمبر: 199
Sunan Abi Dawud 199
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
80: باب الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند (سونے) سے وضو ہے یا نہیں؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کر دی، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: ”(اس وقت) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 199]
💡 وضاحت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا نہ کہ لیٹ کر۔ جیسے کہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔ نماز عشاء کو دوسری نمازوں کی بہ نسبت اول وقت کی بجائے دیر سے پڑھنا مستحب ہے۔ جیسا کہ حدیث ۲۰۰ میں آیا ہے۔ ”انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کا انتظار کرتے رہتے تھے حتی کہ ان کے سر (نیند کے باعث) جھک جھک جاتے تھے۔پھر وہ نماز پڑھ لیتے اور (نیا) وضو نہ کرتے تھے“۔ محض نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، الایہ کہ لیٹ کر ہو یا کسی ایسے سہارے سے ہو کہ اعضا ڈھیلے ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ نیند میں بھی آپ کا وضو قائم رہتا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (570) صحيح مسلم (639)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 24 (570)، صحیح مسلم/المساجد 39 (639)، (تحفة الأشراف: 7776)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/88، 126) (صحیح)