سنن أبي داود حدیث نمبر: 1661
Sunan Abi Dawud 1661
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: " وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا".
عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» (اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1661]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (988)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:18997)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 6 (988) (صحیح)