سنن أبي داود حدیث نمبر: 1660
Sunan Abi Dawud 1660
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
33: باب فِي حُقُوقِ الْمَالِ
باب: مال کے حقوق کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ لَهُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ: فَمَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " تُعْطِي الْكَرِيمَةَ وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ وَتَسْقِي اللَّبَنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو، سواری کے لیے جانور دو، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1660]
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (2444 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2322 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 2 (2444)، (تحفة الأشراف:15453)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/383، 489، 490) (حسن) (اس کے راوی ابوعمر الغدانی لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث ماقبل ومابعد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)