سنن أبي داود حدیث نمبر: 1639
Sunan Abi Dawud 1639
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
27: باب مَا تَجُوزُ فِيهِ الْمَسْأَلَةُ
باب: کن صورتوں میں سوال (مانگنا) جائز ہے؟
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر (نشان زخم) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے (مانگنا) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1639]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1846) ¤ أخرجه النسائي (2600 وسنده صحيح) عبد الملك بن عمير صرح بالسماع عند أحمد (5/22)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزکاة 38 (681)، سنن النسائی/الزکاة 92 (2600)، (تحفة الأشراف:4614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/10، 19،22) (صحیح)