سنن أبي داود حدیث نمبر: 1638
Sunan Abi Dawud 1638
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
26: باب كَمْ يُعْطَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِنَ الزَّكَاةِ
باب: ایک شخص کو کتنی زکاۃ دی جائے؟
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ" يَعْنِي دِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ.
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1638]
💡 وضاحت:
۱؎: شاید یہ غارمین (قرضداروں) کا حصہ ہو گا کیوں کہ دیت میں زکاۃ صرف نہیں ہو سکتی، ویسے اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ دیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ متفق عليه رواه البخاري (6898) ومسلم (1669) وانظر الحديث الآتي (4523)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدیات 22 (6898)، صحیح مسلم/القسامة 1 (1669)، سنن النسائی/القسامة 2 (4714)، سنن ابن ماجہ/الدیات 28 (2677)، (تحفة الأشراف:4644، 15536، 15592) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث مفصلاً برقم (4520)