سنن أبي داود حدیث نمبر: 1608
Sunan Abi Dawud 1608
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
17: باب مَا لاَ يَجُوزُ مِنَ الثَّمَرَةِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: جن پھلوں کو زکاۃ میں دینا جائز نہیں ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصَا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قَنَا حَشَفًا، فَطَعَنَ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَقَالَ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا" وَقَالَ: " إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: ”اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا“، پھر فرمایا: ”یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» (خراب قسم کی کھجور) کھائے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1608]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (1821 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 27 (2495)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 19 (1821)، (تحفة الأشراف:10914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/23، 28) (حسن)