سنن أبي داود حدیث نمبر: 1607
Sunan Abi Dawud 1607
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
17: باب مَا لاَ يَجُوزُ مِنَ الثَّمَرَةِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: جن پھلوں کو زکاۃ میں دینا جائز نہیں ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ". قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَسْنَدَهُ أَيْضًا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع ۱؎ فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1607]
💡 وضاحت:
۱؎: زکاۃ میں اوسط درجہ کا مال دیا جاتا ہے، نہ بہت عمدہ اور نہ بہت خراب، کھجور کی مذکورہ دونوں قسمیں ردی اور خراب ہیں، اس لئے انہیں زکاۃ میں دینے سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الزھري مدلس وعنعن ¤ وانظر سنن النسائي (2494) وسنده حسن فإنه يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4658)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 27 (2494) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین: ابن شہاب زھری سے روایت میں ضعیف ہیں)