سنن أبي داود حدیث نمبر: 1566
Sunan Abi Dawud 1566
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
4: باب الْكَنْزِ مَا هُوَ وَزَكَاةِ الْحُلِيِّ
باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخَاتَمِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: كَيْفَ تُزَكِّيهِ؟ قَالَ: تَضُمُّهُ إِلَى غَيْرِهِ.
اس سند سے عمر بن یعلیٰ (عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ) سے اسی انگوٹھی والی حدیث جیسی حدیث مروی ہے سفیان سے پوچھا گیا: آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے؟ انہوں نے کہا: تم اسے دوسرے میں ملا لو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1566]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عمر بن عبد اللّٰه بن يعلي ضعيف (تق: 4933) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19157) (ضعیف) (عمر بن یعلی ضعیف راوی ہیں)