سنن أبي داود حدیث نمبر: 1564
Sunan Abi Dawud 1564
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
4: باب الْكَنْزِ مَا هُوَ وَزَكَاةِ الْحُلِيِّ
باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: " مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ، فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں سونے کے اوضاح ۱؎ پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال اتنا ہو جائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے وہ کنز نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1564]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا زیور ہے جسے پازیب کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن المرفوع منه فقط
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عطاء بن أبي رباح لم يسمع من أم سلمة رضي اللّٰه عنھا كما قال علي بن المديني:(المراسيل لابن أبي حاتم ص155) ¤ وللمرفوع شواهد ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18199) (حسن)