سنن أبي داود حدیث نمبر: 1526
Sunan Abi Dawud 1526
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
26: باب فِي الاِسْتِغْفَارِ
باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" فَقُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1526]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اللہ رب العزت کے علم و قدرت اور سمع کی رو سے ہے، رہی اس کی ذات تو وہ عرش کے اوپر مستوی اور بلند و بالا ہے، نیز اس حدیث سے ذکر سری کی ذکر جہری پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قوله إن الذي تدعونه بينكم وبين أعناق ركائبكم وهو منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ أصله متفق عليه انظر البخاري (2992) ومسلم (2704)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 131 (2992)، والمغازي 38 (4205)، والدعوات 50 (6384)، 66 (6409)، والقدر 7 (6610)، والتوحید 9 (7386)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 13 (2704)، سنن الترمذی/الدعوات 3 (3374)، 58 (3461)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (536، 537، 538)، سنن ابن ماجہ/الأدب 59 (3824)، (تحفة الأشراف:9017)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394، 399، 400، 402، 407، 417، 418) (صحیح)