سنن أبي داود حدیث نمبر: 1514
Sunan Abi Dawud 1514
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
26: باب فِي الاِسْتِغْفَارِ
باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1514]
💡 وضاحت:
۱؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہو جاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کر لے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بدقسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہوجائے تو یہ اصرار نہ ہو گا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (2340) ¤ وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الدعاء (1797) فيه أبو شيبة سعيد بن عبد الرحمن الأسدي حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 107 (3559)، (تحفة الأشراف:6628) (ضعیف) (اس کے ایک راوی مولی لا ٔبی بکر مبہم مجہول آدمی ہیں)