سنن أبي داود حدیث نمبر: 1512
Sunan Abi Dawud 1512
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
25: باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ
باب: آدمی سلام پھیرے تو کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ ”اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1512]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح روایات سے یہ دعا صرف اتنی ہی ثابت ہے جن روایتوں میں «وإليك يرجع السلام وأدخلنا دار السلام، تبارك ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإكرام» کی زیادتی آئی ہے وہ کمزور اور ضعیف ہیں۔
۲؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔
۲؎: مولف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (592)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 26 (592)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (298)، سنن النسائی/السہو 82 (1339)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 32 (924)، (تحفة الأشراف:16187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/62، 184، 235)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1387) (صحیح)