سنن أبي داود حدیث نمبر: 1395
Sunan Abi Dawud 1395
کتاب #--: ابواب: قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل
9: باب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟ قَالَ: " فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا" ثُمَّ قَالَ: " فِي شَهْرٍ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي عِشْرِينَ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي عَشْرٍ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي سَبْعٍ" لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس دن میں“، پھر فرمایا: ”ایک ماہ میں“، پھر فرمایا: ”بیس دن میں“، پھر فرمایا: ”پندرہ دن میں“، پھر فرمایا: ”دس دن میں“، پھر فرمایا: ”سات دن میں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1395]
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا قوله لم ينزل من سبع شاذ لمخالفته لقوله اقرأه في ثلاث
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (2947 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/ القراء ات 13 (2947)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8068، 8069)، (تحفة الأشراف:8944) (صحیح) (اِس روایت میں وارد لفظ لم ینزل من سبع شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر 1391) کے برخلاف ہے جس میں تین دن بھی وارد ہوا ہے)