📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله

ابواب: قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل

کتاب #13 • کل احادیث: 13
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
8: باب فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ
باب: قرآن کتنے دنوں میں ختم کیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ"، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " اقْرَأْ فِي عَشْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1388]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5054) صحيح مسلم (1159)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ فضائل القرآن 34 (5053، 5054)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8962)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القراء ات 13 (2946)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178(1346)، مسند احمد (2/163، 199)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" فَنَاقَصَنِي، وَنَاقَصْتُهُ، فَقَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا". قَالَ عَطَاءٌ: وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي، فَقَالَ بَعْضُنَا: سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ بَعْضُنَا: خَمْسًا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ۱؎ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1389]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ختم قرآن کی مدت بڑھانا اور روزے رکھنے کی مدت کم کرنا چاہتے تھے، جب کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ختم قرآن کی مدت کم اور روزے رکھنے کی مدت بڑھانا چا ہتے تھے، اور ایک نسخے میں «فناقضني وناقضته» ضاد معجمہ کے ساتھ ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری بات کاٹتے تھے، اور میں اپنے بات پر اصرار کرتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8642)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/162، 216) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: " فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ: " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ" قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1390]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ سات دن میں ختم کیا جائے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں شبینہ وغیرہ کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه الترمذي (2949 وسنده صحيح) وابن ماجه (1347 وسنده صحيح) ورواه الشعبة عن قتادة به (مسند أحمد 2/195)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8951) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ خَالُ عِيسَى بْنِ شَاذَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا الْحَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: " اقْرَأْهُ فِي ثَلَاثٍ"، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: عِيسَى بْنُ شَاذَانَ كَيِّسٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تین دن میں پڑھا کرو۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1391]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وله شاھد عند أحمد (2/188 وسنده قوي)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8623) (حسن صحیح)
9: باب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، قَالَ: سَأَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَقَالَ لِي: فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: مَا أُحَزِّبُهُ، فَقَالَ لِي نَافِعٌ: لَا تَقُلْ مَا أُحَزِّبُهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَرَأْتُ جُزْءًا مِنَ الْقُرْآنِ"، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.
ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ۱؎۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1392]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے قرآن مجید کو تیس حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے تیس پارے بنا لینے کا جواز ثابت ہوا، اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن کے اس طرح سے تیس پارے نہیں تھے، جس طرح اس وقت رائج ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قول الراوي: ”حسبت أنه ذكره عن المغيرة“ يدل علي أنه لم يحفظه فالسند معلل ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:11532) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: أَوْسُ بْنُ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْأَحْلَافُ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَقِيفٍ، قَالَ: كَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ يُحَدِّثُنَا، وقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِمَكَّةَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ نُدَالُ عَلَيْهِمْ، وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا"، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةً أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْنَا: لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ، قَالَ: " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ جُزْئِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيءَ حَتَّى أُتِمَّهُ". قَالَ أَوْسٌ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوا: ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ وَحْدَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ.
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا، (مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ (آپ گفتگو) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آ گئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کر دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ) کی روایت کامل ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1393]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلا حزب: بقرہ، آل عمران اور نساء نامی سورتیں، دوسرا حزب: مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور توبہ نامی سورتیں، تیسرا حزب: یونس، ھود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نحل نامی سورتیں، چوتھا حزب: اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان نامی سورتیں، پانچواں حزب: شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، الم تنزیل السجدۃ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین نامی سورتیں، چھٹواں حزب: صافات، ص، زمر، مومن، حم سجدہ، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف، محمد، فتح اور حجرات نامی سورتیں، ساتواں حزب: سورہ (ق) سے لے کر اخیر قرآن تک کی سورتیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (1345) ¤ عثمان بن عبد اللّٰه بن أوس: روي عنه جماعة و وثقه ابن حبان وقال الذھبي:”محله الصدق“ ولكن في ادراكه جده نظر ¤ انظر المشكوة بتحقيقي (2167) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178 (1345)، (تحفة الأشراف:1737) (ضعیف) (اس کے راوی عثمان لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1394]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2201) ¤ سعيد بن ابي عروبه تابعه شعبة عند الدارمي (1534، نسخه أخري: 1517 وسنده صحيح / معاذ علي زئي)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/القراء ات 13 (2949)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8067)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 178 (1347)، (تحفة الأشراف:8950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 165، 189، 195)، دی/ فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟ قَالَ: " فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا" ثُمَّ قَالَ: " فِي شَهْرٍ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي عِشْرِينَ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي عَشْرٍ"، ثُمَّ قَالَ: " فِي سَبْعٍ" لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن میں، پھر فرمایا: ایک ماہ میں، پھر فرمایا: بیس دن میں، پھر فرمایا: پندرہ دن میں، پھر فرمایا: دس دن میں، پھر فرمایا: سات دن میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1395]
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله لم ينزل من سبع شاذ لمخالفته لقوله اقرأه في ثلاث
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (2947 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ القراء ات 13 (2947)، ن الکبری/ فضائل القرآن (8068، 8069)، (تحفة الأشراف:8944) (صحیح) (اِس روایت میں وارد لفظ لم ینزل من سبع شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر 1391) کے برخلاف ہے جس میں تین دن بھی وارد ہوا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: أَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ؟ لَكِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ النَّجْمَ، وَالرَّحْمَنَ فِي رَكْعَةٍ، وَاقْتَرَبَتْ، وَالْحَاقَّةَ فِي رَكْعَةٍ، وَالطُّورَ، وَالذَّارِيَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَإِذَا وَقَعَتْ، وَنُونَ فِي رَكْعَةٍ، وَسَأَلَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَعَبَسَ فِي رَكْعَةٍ، وَالْمُدَّثِّرَ، وَالْمُزَّمِّلَ فِي رَكْعَةٍ، وَهَلْ أَتَى، وَلَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي رَكْعَةٍ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَالْمُرْسَلَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَالدُّخَانَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ فِي رَكْعَةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا تَأْلِيفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ.
علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ہم مثل سورتوں کو جیسے نجم اور رحمن ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقة ایک رکعت میں، والطور اور الذاريات ایک رکعت میں، إذا وقعت اور نون ایک رکعت میں، سأل سائل اور النازعات ایک رکعت میں، ويل للمطففين اور عبس ایک رکعت میں، المدثر اور المزمل ایک رکعت میں، هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة ایک رکعت میں، عم يتسائلون اور المرسلات ایک رکعت میں، اور اسی طرح الدخان اور إذا الشمس كورت ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1396]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون سرد السور
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن وحديث البخاري (4993) ومسلم (822) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:9183)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (775)، وفضائل القرآن 6 (4996)، 28 (5043)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (722)، سنن الترمذی/الصلاة 305 (الجمعة 69) (602)، سنن النسائی/الافتتاح 75 (1007)، مسند احمد (1/380، 417، 427، 436، 455) (صحیح) (مگر سورتوں کی یہ فہرست ثابت نہیں ہے، اور مؤلف کے سوا کسی کے یہاں یہ فہرست ہے بھی نہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1397]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5008) صحيح مسلم (807)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 10 (5009)، صحیح مسلم/المسافرین 43 (807)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 4 (2881)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (721)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 183 (1369)، (تحفة الأشراف:9999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/118، 121، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 170 (1528)، وفضائل القرآن 14 (3431) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا سَوِيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: ابْنُ حُجَيْرَةَ الْأَصْغَرُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دس آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بے انتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1398]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1201) ¤ صححه ابن خزيمة (1144 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8874) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرَّاءِ، فَقَالَ: كَبِرَتْ سِنِّي، وَاشْتَدَّ قَلْبِي، وَغَلُظَ لِسَانِي، قَالَ: " فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم"، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ: " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ" فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ، مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں «الر» ہے ۱؎، اس نے کہا: میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہو گئی ہے (اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر «حم» والی تینوں سورتیں پڑھا کرو، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو «مسبحات» میں سے تین سورتیں پڑھا کرو، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک جامع سورۃ سکھا دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «إذا زلزلت الأرض» سکھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «أفلح الرويجل» (بوڑھا کامیاب ہو گیا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1399]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سورہ یونس، سورہ ہود اور سورہ یوسف۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1479، 2183) ¤ عيسي بن ھلال: صدوق، و ثقه ابن حبان والحاكم وغيرھما و حديثه حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 204 (950)، (تحفة الأشراف:8908)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/169) (ضعیف) (اس میں عیسی بن ہلال صدفی ضعیف ہیں)
10: باب فِي عَدَدِ الآىِ
باب: سورۃ تبارک الذی کی آیات کا شمار۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی ایک سورۃ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ «تبارك الذي بيده الملك» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1400]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2153) ¤ أخرجه الترمذي (2891 وسنده حسن) وابن ماجه (3786 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل القرآن 9 (2891)، ن الکبری /التفسیر (11612)، الیوم واللیلة (710)، سنن ابن ماجہ/الأدب 52 (3786)، (تحفة الأشراف:13550)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن 23 (3452) (حسن)
← پچھلی کتاب #12 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #14 →