سنن أبي داود حدیث نمبر: 1362
Sunan Abi Dawud 1362
کتاب #--: ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
27: باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: " وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ"، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ". وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: " وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ".
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا: انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟ تو وہ بولیں: انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1362]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1264) ¤ عبدالله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 285، وسنده صحيح / معاذ علي زئي)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16282)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (307)، مختصراً سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (16282)، مسند احمد (6/149) (صحیح)