سنن أبي داود حدیث نمبر: 1361
Sunan Abi Dawud 1361
کتاب #--: ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
27: باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا". قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ: " وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے: اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے «جالسا» (بیٹھ کر) کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1361]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله بين الأذانين والمحفوظ بعد الوتر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1159) ¤
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 22 (1159)، (تحفة الأشراف: 17735)، وانظر حدیث رقم: (1342) (صحیح) وركعتين جالساً بين الأذانين خطا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5؍ 103- 104)