سنن أبي داود حدیث نمبر: 1136
Sunan Abi Dawud 1136
کتاب #--: ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
249: باب خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ
باب: عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ" قِيلَ: فَالْحُيَّضُ؟ قَالَ: " لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: " تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں“، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے۔“ [سنن ابي داود/حدیث: 1136]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (974)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، والجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/الصلاة 271 (539)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ 22 (390)، والعیدین 2 (1559)، 3 (1560)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: (18095، 18101، 18110، 18112، 18114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 223 (1650) (صحیح)